نئی دہلی،23؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے آج کہا کہ فرانس کے ساتھ 2008 میں رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری سے کے بارے میں معاہدے میں قیمتوں کے انکشاف سے متعلق کوئی رازداری کی شرط نہیں ہے اور اس کے تحت صرف ہتھیاروں کے تکنیکی تفصیلات اور صلاحیت کو خفیہ رکھا جا سکتا ہے۔
سابق وزیر دفاع اور کانگریس کے سینئر لیڈر اے کے انٹونی، سینئر لیڈر آنند شرما اور مواصلات محکمہ کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجیوالا نے یہاں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع نرملا سیتا رمن ان طیاروں کی قیمتوں میں رازداری کی شرط ہونے کی بات کرکے پارلیمنٹ اور ملک کو گمراہ کررہے ہیں ۔ استحقاق کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے، اس لیے کانگریس ان کے خلاف خصوصی مراعات شکنی کی تجویز لانے پر غور کرے گی اور اس کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔
مسٹر انٹونی نے کہا کہ کہ رافیل سودے میں بڑا گھپلہ ہوا ہے اور اسے چھپانے کے لئے وزیر اعظم اور وزیر دفاع جھوٹ بول کر ملک کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس سودے کے بارے میں فرانس کے ساتھ 25 جنوری 2008 کو معاہدہ ہوا تھا اور مودی حکومت اس معاہدے کا بار بار حوالہ دے کر رازداری کی بات کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے میں کہیں بھی قیمتیں نہ بتانے کی شرط نہیں ہے۔ معاہدے میں قیمتوں کو چھپاکر رکھنے کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔